-->

الرٹ پے اکاؤنٹ ریفرینس

Friday, February 25, 2011

 چھوٹی سی بات  
زندگی کے معاملات اور معاشرتی رویوں میں ہمیں کس طرح تبدیلی لانی ہے ۔ 
ہمارے آس پاس چیزیں بہت ہیں جن سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہيں ۔
اس طرح کے اور دیگر راہ نما اصولوں کی وضاحت اور نشان دہی پر مبنی ویڈیو لیکچر ز پیش خدمت ہیں 
مقرر ہيں جناب زبیر منصوری صاحب
نوٹ: کل 34 مختلف موضوعات پر یہ 34 ویڈیو ز ہيں جو ایک یو ٹیوب پلے لسٹ  کی صورت میں نیچے دیئے گئے ہیں ۔
ہر ویڈیو کے اختتام پر اگلی ویڈیو خود پلے ہوتی رہے گی ۔
 

Sunday, January 23, 2011

Self Management


Self Management


You are responsible for everything that happens in your life. Learn to accept total responsibility for yourself. If you do not manage yourself, then you are letting others have control of your Life. These tips will help "you" manage "you."

Here is a list of things that help you in self management and which will in turn lead you to the path of success: -

-) Look at every new opportunity as an exciting and new-life experience.

-) Be a professional who exhibits self-confidence and self-assurance in your potential to complete any task.

-) Agree with yourself in advance that you will have a good attitude toward the upcoming task.

-) Frequently ask, "Is what I am doing right now moving me toward my goals?"

-) Do it right the first time and you will not have to take time later to fix it.

-) Accept responsibility for your job successes and failures. Do not look for a scapegoat.

-) Do not view things you do as a "job." View all activities as a challenge.
 
-) Use your subconscious mind by telling it to do what you do want. Instead of telling yourself, "I can't do that very well," say, "I can do this very well."-) Give yourself points for completing tasks on your "to-do" list in priority order. When you reach 10 points, reward yourself.

-) Practice your personal beliefs. It may be helpful each morning to take 15 minutes to gather your thoughts and say a prayer.

-) Make a commitment to show someone a specific accomplishment on a certain date. The added urgency will help you feel motivated to have it done.

-) Practice self-determination, wanting to do it for yourself.

-) Believe that you can be what you want to be.

-) Never criticize yourself as having a weakness. There is no such thing. You are only talking about a present undeveloped skill or part of yourself that if you so chose, you can change. You do not have any weakness, only untapped potential.

-) Be pleasant all the time-no matter what the situation.

-) Challenge yourself to do things differently than you have in the past. It provides new ideas and keeps you interested.

-) Talk to yourself. A self-talk using positive affirmation is something that is common among all great achievers. They convince themselves that they can accomplish their goals.

-) Create your own "motivation board" by putting up notes of things you need to do on a bulletin board or special wall space. It is an easily visible way to see what you need to work on. When an item is done, remove the note. Also keep your goals listed and pictured on your board.

Click here to join nidokidos

-) Stay interested in what you are doing. Keep looking for what is interesting in your work. Change your perspective and look at it as someone outside your job would,

-) Establish personal incentives and rewards to help maintain your own high enthusiasm and performance level.
 






What Employers Want - Self Management

What exactly are employers looking for in a young employee? This resource for young people aged

13 to 19 is based on interviews with 12 key employers in central west New South Wales

http://www.nidokidos.

Wednesday, January 12, 2011

کتنا آسان ہے ۔


چھوٹی سی عمر میں دیکھی گئی حیرت انگیز چیزیں کس طرح اذہان سے چپک جاتی ہیں ۔ جمعے کا دن چھٹی کا تھا ۔ دیر سے اٹھا تھا ۔ بلیک اینڈ ٹی وائٹ ٹی وی   پر سرکاری  اور واحد چینل پر ایک ترجمہ شدہ پروگرام آ رہا تھا  …… میں سامنے بیٹھا چائے پاپا کا ناشتہ کرتے ہوئے  دیکھ رہا تھا  جس میں ایک شعبدہ باز اپنے سامنے ڈیسک کے  اوپر  موجود لوہ چون کے ذرات  کے اوپر سے ہاتھ گزارتا ہے  تو وہ ذرات کے ڈھیر اس کے ہاتھ کے اشارے پر چلنے لگتے ہیں ۔  جہاں ہاتھ لے جاتا وہ ذرات کا ڈھیر اس کے ہاتھ کے اشارے پر چلنے لگتے ۔ میں تو دیکھ کر بہت متاثر ہوا  واہ بے جان چیزیں اس کے ہاتھ کے اشارے پر حرکت کر رہی ہيں ۔ پروگرام  کے آخر میں بتایا گیا کہ یہ محض شعبدہ بازی تھی ڈیسک کے نیچے اس کا ایک لڑکا بیٹھا ہوا مقناطیس  اس کے ہاتھ کے مطابق چلا رہا تھا ۔ یہ حقیقت دیکھتے ہی مجھ بچے کے چہرے پر  معصوم سی مسکراہٹ سی آگئی ۔ ۔ مگر یہ واقعہ لا شعور میں رہ گیا ۔   کتنا آسان ہے ۔ ایک  اشارے سے چیز کو اپنی مرضی سے گھمانا  بس ذرا چھپانے کا فن آنا چاہیے ۔
لڑکپن  میں سیاست کے داؤ پیچ پڑھنے کا اتفاق ہوا تو ایک واقعے نے توجہ مبذول کرالی  کہ بھٹو کے شراب پینے پر عوام مشتعل ہو کر اس کے خلاف نعرے بازی کرنے لگی ۔ تو بھٹو نے  اپنے خلاف نکلنے والے جلوس  کے سامنے آ کر کہا کہ   ہاں میں شراب پیتا ہوں کسی کا خون نہيں پیتا ۔  آن کی آن میں ہزاروں کا  مجمع  جو ابھی اس کے خلاف تھا اس دلیری سے متاثر ہو کر بھٹو کے حق میں نعرہ لگانے لگا ۔  دل سے ایک آواز آئی …… "کتنا آسان ہے "۔   ایک اشارے سے ہزاروں کے ہجوم کو بدل دینا ۔ بس ذرا تقریر سازی کا فن آنا چاہیے ۔
 پھر وقت نے لاکھوں نوجوان کی  طرح مجھے بھی تعلیم تعلیم  کی گردان لگانے پر مجبور کیا ۔ اس تعلیم کے دوران کبھی سوچا نہيں کہ میں کسی مجمع کو آپریٹ  کرنا والا بنوں یا یا آپریٹ ہونے والے مجمع کا حصہ بنوں ۔ بس جیسے زندگی چل رہی تھی سو چل رہی تھی ۔  تعلیم منقطع کر کے چار پانچ ہزار کی مزدری  کرتا رہا  اور اسی بہتے ہوئے دھارے کا حصہ بن گیا جو کبھی سیاسی اشارے پر بہتا رہتا ہے اور کبھی کسی کے خوف سے ۔ کبھی مذہب  کی جھوٹی آن بان کے لیے چلتا تھا ۔ اک بھیڑ چال تھی  ۔ جیتا تھا تو کسی کے اشارے پر ۔ چلتا تھا تو کسی کے اشارے پر  گو کہ جان لٹادینے کی حد تک کسی سے تعلق نہیں تھا ۔ مگرایک بات ذہن میں تھی  کہ  "کتناآسان  ہے "۔  دوسروں کے کہنے پر جینا مرنا  بس جھوٹی تسلی ملنی چاہیے کہ ایک دن اس کا انعام ملے گا ۔
نو عمری کا دور ہی ایسا ہوتا ہے  ……  ہر فرقہ  نئے اور تازہ جذبات رکھنے والے نوجوانوں   کو  اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتا ہے  ۔ بڑی عمر کے لوگوں پر کوئی محنت نہيں کرتا کیوں کہ  ان کو فرقوں اور مسلکوں کی حقیقت کا پتہ ہوتا ہے ۔ ان کے ابتدائی سوالات کا جواب دینا تنظیم کے امیروں کے بس کی بات نہيں ہوتی ۔ ایسے میں  نو عمر لڑکے بہت نرم شکار ثابت ہوتے ہيں ۔ پہلے نماز نہ پڑھنے کا طعنہ دے کر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد میں آنے پر مجبور کیا جاتا ہے پھر  ان کو کہانیوں اور دیو مالائی داستانوں سے متاثر کر کے آمادہ کر لیا جاتا ہے کہ وہ ہمارے فرقے کے لیے کام کریں  ۔ جنت چاہیے تو امیر  کے اشاروں پر چلنا ضروری ہے اور یہ کام بھی  موم کے بنے ہوئے احادیث اور تفاسیر کے ذریعے ہو جاتا ہے ۔ " کتنا آسان ہے  " ۔ جنت حاصل کرنا بس  کسی کے یقین کی ڈور اپنے ہاتھ میں ہونی چاہیے ۔
قائد اعظم کا ایک واقعہ بھی یاد آیا کہ پاکستان بننے کے بعد کسی تعلیمی ادارے کے دورے پر تھے تو اک طالب علم نے قائد اعظم سے باتوں میں کہا کہ سر میں آپ کی طرح ایک بڑا لیڈر بننا چاہتا ہوں  … پاکستان کے لیے آپ کی طرح بڑے بڑے کام کرنا چاہتا ہوں ۔  تو قائد اعظم نے اس سے پوچھا کہ تمہارے والد صاحب  کیاکرتے ہيں ؟اس نے کہا وہ غریب مزدور ہيں  تو قائد اعظم نے کہا کہ تب تم  میری طرح نہيں بن سکتے ۔ طالب علم نے حیران ہو کر وجہ پوچھی  تو قائد اعظم نے کہا کہ میری تنخواہ آج لاکھ روپے ماہانہ ہے ایسے میں میں جب کسی سے پاکستان کے لیے کسی سے ایک روپیہ بھی چندہ مانگتا ہوں تو  وہ شخص اس اطمینان سے مجھے روپیہ دیتا ہے کہ یہ شخص خود لاکھوں کماتا ہے  تو اسے میری دیئے ہوئے ایک روپے کا لالچ نہيں ہے  یہ مجھ سے  لیا ہوا روپیہ واقعی کسی بامقصد کام کے لیے لے رہا ہے ۔ واؤ  ۔ " کتنا آسان ہے  " قوم  کی رہ نمائی کرنا  بس ذرا ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے ۔
میں بھی تو دیکھوں ذرا اس فن کو کہ کیسے عوام کے جم غفیر کو اپنی مرضی سے چلا یا جا سکتا ہے تو معلوم ہوا کہ اس کے لیے پہلے عوام کا حصہ بننا پڑتا ہے ۔ عوام کے لیے عوام کے درمیان رہ کر کچھ کرنا پڑتا ہے ۔ اور ان سب کے لیے پڑھنا پڑتا ہے مشاہدہ کرنا پڑتا ہے اچھا اور برا سیکھنا پڑتا ہے ۔  تعلیم حاصل کرنا پڑتا ہے ۔ بولنے کا طریقہ آنا چاہیے ۔  عوام کی فلاح کا جذبہ ہونا چاہیے ۔ سچا مسلمان ہونا چاہیے ۔اب  تو میرا ذہن بن چکا تھا کہ  مجھے بھی سیکھنا ہے یہ آسان کام ۔لیڈری کرنا ہے ۔ حکومت کا نشہ پوراکرنا ہے ۔ عوام کو اپنے ایک اشارے پر نچانا اور دوڑانا ہے ۔  تعلیم حاصل کرنا ہے ۔ مگر ایک چیز کی کمی تھی  اور وہ  کمی تھی خوش نما  نعروں کی  ۔
وہ اب مجھے مل رہا ہے۔
آج کل لوگوں کو ایک بات سکھا دی گئی ہے کہ  کوئی قانون نہیں ہے ۔ کچھ بھی قانون کے مطابق نہيں ہو رہا ہے۔ نوے فی صد جو ٹھیک ہے اس کو بھلا دینا چاہیے بس دس فیصد غلط کو ذہن میں رکھ کر پورے نظام کو بے کار اور غیر موجود سمجھنا چاہیے۔  تو ایسے میں ہمیں مایوس ہو کر ہر وہ کام کر لینا چاہیے جس سے ہمیں قانون نے روک رکھا ہے۔ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لینا چاہیے ۔
بڑا ایشو اٹھا ہوا ہے توہین رسالت کا ساتھ ہی لوگوں کو اختیار بھی ملا ہوا ہے خود فیصلے کرنے کا خود ہی  کسی پر مقدمہ قائم کر سکتے ہیں کہ اس نے توہین رسالت کی ہے ۔  یا یہ ڈاکو ہے ۔ یا یہ قاتل ہے ۔خود ہی فیصلے کر سکتے ہيں کہ اس کی سزا موت ہونی چاہیے ۔ اور مزے کی بات یہ اس خود ساختہ سزائے موت پر خود عمل بھی کر سکتے ہيں ۔
کون روکنے والا ہے ۔ حکومت ، قانون ، ادارے یہ سب   تو  ہم نے بگاڑا  اوہ سوری کچھ زیادہ ہی سچ بول گیا میرا خیال ہے یہاں ہمیں حقائق سے پردہ پوشی کرنی چاہیے یہ کہہ کر سسٹم کو کسی  اور نے باہر سے آ کر بگاڑا ہے ۔ کسی خلائی مخلوق نے ہمیں اس قابل نہيں چھوڑا کہ  ہم بگڑے ہوئے نظام کو ٹھیک کر سکیں ۔  
تو ایسے میں مجمعے کو اپنے اشاروں پر چلانے کا شوق پورا کیا جا سکتا ہے ۔ ہجوم کو اپنی طاقت کا نشہ پورا کرنے کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے ۔
بس لوگوں کے ہجوم میں کھڑے اپنے دشمن کے سامنے کھڑے ہو کر ایک نعرہ لگائیں "ناموس رسالت  "جواب میں جتنے زیادہ زندہ باد کے نعرے آئیں گے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ آپ  کے ہم خیال کتنے لوگ موجود ہيں ۔اس مجمعے میں موجود سود خور بھی زندہ باد کہے گا ۔ بے نمازی بھی زندہ باد کہے گا۔زکٰوۃ نہ دینے والا بھی زندہ باد کہے گا  ۔ موبائل چور بھی زندہ باد کہے گا ۔زانی بھی زندہ باد کہے گا ۔ اب ایک  آواز  اپنے دشمن کی طرف منہ کر کے لگائیں اس نے نبی کی شان میں گستاخی کی ہے ۔ مشتعل افراد کا ہجوم    بھی آستینیں اور بھنویں چڑھا لے گا ۔ اب لوہا گرم ہے  ضرب لگائیں  کہ  …… مارو اسے  …… مار دو اسے جان سے  …… لیجیے پورا مجمع  اس آدمی  کو آن کی آن میں سفاکی سے ہلاک کر دے گا ۔ جس سے آپ کی ذاتی دشمنی تھی   … بس کسی کو یہ بولنے کا موقع نہ دیں کہ پہلے تحقیق کر لو کیاسچ ہے کیا جھوٹ ہے ۔
 "کتنا آسان ہے  "مخالفت مول لیے بغیر کسی کو ہلاک کر دینا  بس عوام کو  مشتعل کرنے کا فن آنا چاہیے ۔

Monday, December 27, 2010

انٹرویو میں کیا کرنا چاہیے - حصہ ششم



 RED SIGNALS
•NON-PARTICIPATION IN GAMES & SPORTS
•NON-PARTICIPATION IN EXTRA-CURRICULAR, AND GROUP ACTIVITIES
•NO LEADERSHIP EXPERIENCE
•NO INTEREST & HOBBIES
•BREAK IN STUDIES
 LACK OF MOTIVATION
•POOR WORK HISTORY
•FREQUENT JOB CHANGES
 INDIVIDUAL ASSESSMENT 
 PROFESSIONAL KNOWLEDGE
•EXPERIENCE
•COMPETENCIES
•STRENGTHS & WEAKNESSES
•DEVELOPMENT POTENTIAL
•APTITUDE & TEMPRAMENT        
   COMPETENCIES
 PLANNING
•SOCIAL ADJUSTMENT
•SOCIAL EFFECTIVENESS
•DYNAMISM
•SELF INSIGHT
•BUILDING RELATIONS

 PERSONALITY
 SOCIAL ADAPTABILITY
•WILLING COPERATION
•SENSE OF RESPONSIBILITY
•SELF-CONFIDENCE
•DECISIVENESS
•LIVELINESS
•INFLUENCING ABILITY
   GIFTED INDIVIDUAL  
 GOOD ACADEMIC RECORD
•HOBBIES AND INTERESTS
•ACHIEVEMENT(S) IN SPORTS
•LEADERSHIP EXCELLENCE
•SPECIAL ACHIEVEMENT(S) IN OWN FIELD
•MEMBERSHIP OF PROFESSIONAL BODIES
•REALISTIC PROFESSIONAL/PERSONAL GOALS
•GOOD WORK-HISTORY
•SOUND HEALTH
 ATTRIBUTES DIFFICULT TO COMPENSATE
•  LACK OF AMBITION / DRIVE CANNOT BE OFFSET    BY HIGH LEVEL OF INTELLIGENCE OR     PERSONALITY  
 PERSONAL ADJUSTMENT CANNOT BE OFFSET BY    JOB KNOWLEDGE & SKILL

 ATTRIBUTES THAT CAN BE COMPENSATED
  LACK OF FORMAL EDUCATION CAN BE OFFSET BY AN UNUSUALLY VARIED & BROAD EXPERIENCE

DEFFICICENCY IN  INTELLECTUAL DEPTH CAN BE COMPENSATED BY AN ABUNDANCE OF PERSISTENCE, DEDICATION & ENERGY

انٹرویو میں کیا کرنا چاہیے - حصہ پنجم

SAMPLE ANSWER- CREATIVITY   
•PLEASE TELL US  A SPECIFIC  EXAMPLE   OF A TIME  WHEN YOU DISPLAYED   CREATIVITY  TO RESOLVE  A PROBLEM AT WORK 
ABILITY TO GENERATE    NEW IDEAS AND   INNOVATIVE APPROACHES  TO   ADDRESS  COMPANY,DEPARTMENT OR INDUSTRY  NEEDS
SAMPLE ANSWER- CREATIVITY   
•WHEN I WORKED AT A&A  WIRELESS  2 YEARS AGO ,OUR DEPT.  HAD A VERY POOR IMAGE. I PUT  IN A LOT EXTRA TIME  AND DEVELOPED  A CREATIVE   MARKETING STRATEGY COMPLETE WITH ADS POSTERS AND CONTESTS.   I HAD TAKEN THE INITIATIVE   TO REVIEW    THE RESULTS  OUR  OUR EMPLOYEE ATTITUDE SURVEYS.
SAMPLE ANSWER- CREATIVITY   
 I PRESENTED THIS IDEA TO MY BOSS . HE READILY AGREED FOR IMPLEMENTATION.   THERE WAS A  MARKED  IMPROVEMENT     I  RECEIVED   CEO’s  AWARD OF  EXCELLENCE   FOR IMPACT OF THE INITIATIVES.   
 SAMPLE ANSWER-  TOLERANCE OF AMBIGUITY
  PLEASE TELL US   ABOUT A TIME  WHEN YOU HAD DIFFICULTY  COPING WITH DELAY IN WORK
ABLE TO WITHHOLD   SPEECH OR ACTION AND MAINTAIN COMPOSURE WHEN DEALING WITH CONFLICTING , DELAYED OR  INCOMPLETE  INFORMATION
SAMPLE ANSWER-  TOLERANCE OF AMBIGUITY
   ONE MORNING  MY BOSS  ASKED  US TO CLEAR  OUR SCHEDULE  AS  DY. COMMISSIONER   IS COMING TO MEET US   AFTER LUNCH. SHE  PROVIDED  NO DETAILS  ABOUT THE PURPOSE  OF THE MEETING. SHE ALSO REFUSED TO ANSWER ANY QUESTIONS AND HER MANNER WAS ABRUPT.  I WAS  FRUSTRATED  BY HER ATTITUDE AND WAS EAGER TO  KNOW   WHAT THE  MEETING WAS ABOUT
SAMPLE ANSWER-  TOLERANCE OF AMBIGUITY
   I CHECKED WITH OTHER MANAGER   THEY ALSO DON’T KNOW  AND EVEN THEY WERE NOT INVITED. MY BOSS WAS NOT   VERY PLEASED  WITH  ME FOR APPROACHING  ANOTHER MANAGER.
IT  TURNED OUT  THAT  OUR COMMISSIONER WAS ASKED GO ON   LONG LEAVE REGARDING    PROBLEM  CONNECTED WITH ONE OF OUR TEAM     PROJECTS
SAMPLE ANSWER- PROBLEM SOLVING  
   PLEASE  DESCRIBE A TIME   WHEN   YOU WERE PROUD OF   YOUR   ABILITY   TO HANDLE   A CRISIS  AT  WORK  
THE  ABILITY TO RESOLVE  BUSINESS  RELATED  ISSUES THROUGH   AN  ANALYSIS  OF AVAILABLE   DATA   AND A  LOGICAL STEP BY STEP    APPROACH  

SAMPLE ANSWER- PROBLEM SOLVING  
   LAST JUNE  WHILE  I WAS CALLING ON  A CUSTOMER    DOWNTOWN , THERE  WAS A SEVERE  STORM . I LEFT  THEIR BUILDING   IN THE MIDDLE OF THE STORM  . THE PARKING SLOT WAS  VERY SLIPPERY. JUST BEFORE I REACHED  MY CAR   ONE OF THEIR CLIENT CARE REPRESENTATIVE  SLIPPED AND FELL.       
SAMPLE ANSWER- PROBLEM SOLVING  
    SHE HAD DIFFICULTY    IN GETTING UP  AND COMPLAINED THAT HER ANKLE WAS  HURTING. FORTUNATELY  I HAD  MY   CELL PHONE AND I CALLED FOR  HELP RIGHT  AWAY

انٹرویو میں کیا کرنا چاہیے - حصہ چہارم



TYPES  OF ANSWERS  PREFERED  
MORE SPECIFIC AND DETAILED,   DESCRIBE SPECIFIC EVENTS   AND EXPERIENCES  IN DETAILS   INCLUDING  DATES, NAMES, LOCATIONS   AND TIME FRAMES
THERE IS NO RUSH, JUST RELAX  AND  TAKE YOUR  TIME  AND COME UP WITH SOMETHING SPECIFIC.
TYPES  OF ANSWERS  PREFERED  
NOBODY   IS PERFECT : ONE OF THE  THINGS ASSESSED   WILL BE   THE INSIGHT THAT  A PERSON  HAVE  INTO  HIS/HER STRENGTHS  AND DEVELOPMENT NEED
IT IS IMPORTANT    THAT YOU SHARE SOME OF  YOUR MISTAKES  AND  WHAT DO YOU LEARNED  FROM  THOSE EXPERIENCES
  ASSESSMENT  - MULTI TASKING 
EVIDENCE OF VERY WEAK SKILL
   BECOMES UPSET  OR COMPLAINS   WHEN THERE IS A NEED  TO JUGGLE  A VARIETY  OF TASKS , ACCURACY  DECLINES ERRORS INCREASE
•  EVIDENCE  OF VERY STRONG SKILL SET
THRIVES IN A BUSY ENVIRONMENT, HAS NO DIFFICULTY  MAINTAINING WORKING RELATION SHIP AND QUALITY  WHEN JUGGLING A NUMBER OF PROJECTS OR TASKS
  ASSESSMENT  - TOLERANCE  OF AMBIGUITY 
EVIDENCE OF VERY WEAK SKILL
 HIGHLY  UNCOMFORTABLE   IN  UNSTRUCTURED ENVIRONMENTS, FINDS  DELAYS AND UNCLEAR POLICIES  VERY FRUSTRATING AND UPSETTING, QUALITY OF WORK  DETERIORATES  WITH UNCLEAR GUIDLINES
•  EVIDENCE  OF VERY STRONG SKILL SET
 PRODUCES HIGH QUALITY RESULTS IN AMBIGOUS SITUATIONS. DISPLAYS A HIGH DEGREE  OF COMFORT IN THE FACE OF UNCLEAR GUIDELINES

ASSESSMENT  - FLEXIBILITY
•EVIDENCE OF VERY WEAK SKILL
 RIGID  IN SOCIAL DEALINGS, “ME” ORIENTED, HARD HEADED, BRITTLE, UNCOMPROMISING, INTOLERANT, CRITICAL OF OTHERS ACTION  
•  EVIDENCE  OF VERY STRONG SKILL SET
 SOCIALLY FLEXIBLE “YOU” AND “WE” ORIENTED  ABLE TO WILFULLY COMPROMISE, ACCEPT OTHERS  TOLERANT  OF DIFFERENCES

Print Rahnumai